انہوں نے بہت کم مانگا اور بہت کچھ دیا۔ نرم دل اور دل نشین مسکراہٹ والے ایک وجیہ و شائستہ انسان، وہ سب کے لیے حوصلے کا سرچشمہ تھے۔ وہ اپنی بات کے پکے تھے، دوسروں کی سنتے اور اپنی کہی ہوئی بات کو پورا کر کے دکھاتے تھے۔ وہ سادہ زندگی اور بلند خیالی پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے اعمال، ان کی محبت اور دل جوئی، نہ صرف اپنے خاندان کے لیے بلکہ اس معاشرے کے لیے بھی جس میں وہ رہتے تھے، ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ وہ ایک بہترین بیٹے تھے جنہوں نے اپنے والدین کا بے حد خیال رکھا، ایک محبت کرنے والے شوہر اور اپنے بچوں کے لیے ایک ہیرو تھے۔ وہ ایک وسیع النظر، ترقی پسند اور اقدار کے پابند انسان تھے۔ ان کا یقین تھا کہ تعلیم ہی ترقی کا واحد ذریعہ ہے، اور ان کے بچے اور پوتے نواسے فخر کے ساتھ ان کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور یتیموں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی۔ وہ بے لوثی سے ضرورت مندوں کا سہارا بننے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کو اپنا دین سمجھتے تھے۔ اپنی زندگی ہی میں انہوں نے یتیموں کی تربیت اور کفالت کے لیے یتیم خانہ گلستانِ مہدی کی بنیاد رکھی، جس کی دیکھ بھال اب ان کے بیٹے میثم عباس کر رہے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر انہیں آج بھی پہچانا اور یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی کمی سب کو ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔